Home / میڈیا

میڈیا

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

https://youtu.be/fwcm3AtgJoQ ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم نیم تاریک راہوں میں مارے گئے سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی تیری زلفوں کی مستی برستی رہی تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی جب گھلی تیری راہوں میں شامِ ستم ہم چلےآئے لائے جہاں تک قدم لب پہ حرفِ غزل دل میں قندیلِ غم اپناغم تھا گواہی تیرے حُسن کی دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے نارسائی اگر اپنی تقدیر تھی تیری اُلفت تو اپنی ہی تدبیر تھی کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسلے ہجر کی قتل گاہوں سے سب جاملے قتل گاہوں سے چُن کر ہمارے علم اور نکلیں گے عشاق کے قافلے جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم مختصر کر چلے درد کے فاصلے کر چلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے فیض احمد فیض

Read More »