Home / غزل

غزل

نہ چاہو مجھے جاں سے زیادہ تم

نہ چاہو مجھے جاں سے زیادہ تم پر کرو تو ساتھ چلنے کا ارادہ تم میں قسم سے قسموں کا بندہ نہیں ابھی لے لو بچھڑ جانے کا وعدہ تم مجھے کیا پڑی ہے فرشتہ نظر آنے کی اور ایسا ہی کیوں اوڑھو کوئی لبادہ تم تمھارے طنز کو تعریف …

Read More »

ہجر میں مرے یا وصل میں جیے

ہجر میں مرے یا وصل میں جیے ہمی لوگ تھے جواصل میں جیے کسی نے کہا تھا مرتے دم تک جیو تیرے پہلو کی طرح مقتل میں جیے مشکلیں پڑیں کبھی نہ آساں ہونے کو ہم زندہ دل ایسے ہر مشکل میں جیے تمھارے شہر کا ہر وہ شخص میرا …

Read More »

تیرے پہلو میں کیا رہا

تیرے پہلو میں کیا رہا دل پھر نہ میرا رہا اک رہی بس تیری کمی یوں تو دامن بھرا رہا ہاتھوں میں رہی چھونے کی طلب آنکھوں میں تیرا نقش سا رہا جو اترے نہ کبھی سر سے نشہ تیرا ایسے چڑھا رہا رہے ایسے اس جہاں میں کوئی بیچ …

Read More »

تو ہے میرا جاگتا آج

تو ہے میرا جاگتا آج میرا مان اور میری لاج تیرے دم سے دم یہ قائم میرے شاہ میرے سر کے تاج پیار ہے تیرا تخت حکومت تجھ پے قرباں لاکھوں راج آ جا مل کے توڑیں ہم یہ ظلم کی رسمیں اندھے رواج پیار جہاں پے امر رہے آ …

Read More »

تجھ سے پہلے حالت نہیں تھی یہ

تجھ سے پہلے حالت نہیں تھی یہ ذہن و دل کی صورت نہیں تھی یہ   اک جہدِ مسلسل سے جیتا ہے تجھے تو ایسے ہی مل جاتی قسمت نہیں تھی یہ   ذرا ان کا تو سوچو جنھوں نے عمر بھر کی اور پھر سمجھے کہ او ، محبت …

Read More »