Home / عمومی / نہ چاہو مجھے جاں سے زیادہ تم

نہ چاہو مجھے جاں سے زیادہ تم

نہ چاہو مجھے جاں سے زیادہ تم
پر کرو تو ساتھ چلنے کا ارادہ تم

میں قسم سے قسموں کا بندہ نہیں
ابھی لے لو بچھڑ جانے کا وعدہ تم

مجھے کیا پڑی ہے فرشتہ نظر آنے کی
اور ایسا ہی کیوں اوڑھو کوئی لبادہ تم

تمھارے طنز کو تعریف سمجھوں جاناں
کیا واقعی سمجھتی ہو مجھے اتنا سادہ تم

ملن کی میری جاں اب یہ صورت ہے
فاصلہ طے کرتے ہیں آدھا میں آدھا تم

عمران خوشحال

Check Also

تیری ہنسی

ذرا جو آنکھیں بند کروں تو دکھائی دیتی ہے تیری صورت سنائی دیتی ہے تیری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے