Home / عمومی / تیری ہنسی

تیری ہنسی

ذرا جو آنکھیں بند کروں تو
دکھائی دیتی ہے تیری صورت
سنائی دیتی ہے تیری ہنسی

ہوا کے دوش پر جھومتی سرمست لہر کے جیسی
یخ بستہ برفیلے موسموں میں دوپہر کے جیسی
صحرائے نفرت سے اُدھر محبت کے شہر کے جیسی
تیری ہنسی شبِ ظلمت کی سحر کے جیسی

تیری ہنسی لفظوں میں ڈھلے کیسے
یہ ہے راز گہرا کھلے کیسے
تیری ہنسی ہے جنت کا ترنم
جنت سوائے اس کے ملے کیسے

عمران خوشحال

Check Also

نہ چاہو مجھے جاں سے زیادہ تم

نہ چاہو مجھے جاں سے زیادہ تم پر کرو تو ساتھ چلنے کا ارادہ تم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے