Home / عمومی / بے یقینی

بے یقینی

اسے یقین دلاوں
میں اس کی دھوپ چھاؤں
پر خود کو یقین نہیں
کہ میں بھی ہوں کہیں
ڈگریوں کے ڈھیر میں
امید ِسحر و سویر میں
گم سا ہو گیا ہوں
خود سے کھو گیا ہوں
میں بھی ہوں یہیں
کوئی دلائے مجھے یقیں
*****
عمران خوشحال

Check Also

نہ چاہو مجھے جاں سے زیادہ تم

نہ چاہو مجھے جاں سے زیادہ تم پر کرو تو ساتھ چلنے کا ارادہ تم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے