Home / عمومی / اوے ابّا پیسے دے، شراب لینی ہے!

اوے ابّا پیسے دے، شراب لینی ہے!

گلی میں ایک لڑکاجس کی عمر مشکل سے بیس سال ہوئی ہو گی ، ہاتھ میں کوئی کاٹنے والی چیز پکڑے اپنے سے تگنی عمروں کے تین چار مردوں سے گالم گلوچ کر رہا تھا۔ ان میں سے ایک شخص نے ہاتھ میں ایک پائیپ نما ڈنڈا پکڑا ہوا تھاجس سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ شاید اسی کے استعمال نے لڑکے کو بھڑکا دیا ہے لیکن  اصل مہاجرہ کیا ہے یہ سمجھنا مشکل تھا۔تین میں سے دو شخص ذرا پاس جاتے اور اسے سمجھانے کی کوشش کرتے مگر وہ اچھل کر پیچھے جاتا اور گالیوں کی مزید واہیات اقسام کےساتھ پلٹ کر ڈنڈے والے شخص کو مخاطب کرتا۔

alcohol.jpg

یہ سلسلہ کوئی دس پندرہ منٹ یوں ہی چلا۔  بیچ میں ادھر اُدھر کے گھروں سے اگر کو نکل کر دیکھنے لگتا تو گالیوں کا اگلا نشانہ وہ ہوتا۔ اب ڈنڈے والا شخص منظر سے غائب ہو چکا تھااور باقی بچے دو لوگوں میں سے ایک نے دوبارہ سے اس کو سمجھانے کی کوشش کی۔اس نے کہا۔’’استرا پھینک دو، وہ تمھارا باپ ہے ۔۔۔ گھر چلو۔۔‘‘ لڑکے نے کہا ’’باپ ایسا نہیں ہوتا‘‘’’ یہ کوئی باپ نہیں ، اور یہ۔۔۔فلاں ڈمکاں ۔۔۔ یہ سمجھتا ہوگا کہ میں اس سے ڈرتا ہوں۔۔۔ اوے میں اپنے اللہ سے نہیں ڈرتا میں اس ۔۔۔چ۔۔۔ب۔۔۔ح۔۔۔ سے کیا ڈروں گا‘‘۔

’’آپ چاہتے ہو کہ میں استرا پھینک دوں اور کسی کو قتل نہ کروں تو جاو اسے کہو مجھے ہزار روپیا  دے دے، میں چلا جاوں گا۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں یہاں سے ہی چلا جاوں گا اور اگر نہ جاوں تو میں بڑا ۔۔۔ کا بچہ ہوں‘‘۔

اب کہانی کا پسِ منظر کچھ سمجھ آ رہی تھی کہ استرے والا یہ لڑکا ڈنڈے والے شخص کا بیٹا ہے ، جو کہ باپ سے ہزار روپے مانگ رہا ہے ۔ اور وہ نہیں دے رہا۔ جس پر دونوں کا جھگڑا ہے۔ لیکن یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ ہزار روپے کے لیے پنجابی فلموں کے پھنے خان کی طرح اداکاری کیوں کر رہا۔ اور ہر گزرتے شخص کو گالیوں سے کیوں نواز رہا ہے۔قتل کی دھمکیاں کیوں دے رہا ہے ۔ کسی کی بات کیوں نہیں سن رہا۔

اس کے اس مطالبے کو جب سنجیدہ نہ لیا گیا تو اس نے استرا  ایک طرف پھینکا اور ادھر ہی گلی کے ایک نکر پر بیٹھ کر سگریٹ میں چرس بھرنے لگا ۔ ادھیڑ عمر کا وہ شخص جو پہلے مذاکرات میں ناکام ہو چکا تھا پھر اس کے پاس گیا اور کہا کہ’’ پولیس پکڑ کر لے جائے گی یہاں ۔۔۔ یہ نہیں کرو۔‘‘ وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔۔۔ اس نے پورا سگریٹ کھولا اور پھر تمباکو چرس کے ساتھ ہتھیلی پر مل مل کر اس میں بھر دی۔

تھوڑی خاموشی کے بعد وہ غصے میں آگ بنا ہوا اٹھا اور پاس والے گھر کی پانی کی ٹینکی پر پڑی دو اینٹیں اٹھا کر ایک گاڑی کی طرف بڑھا جو یقیناً اس کے باپ کی ہوئی ہوگی۔ مذاکراتی شخص نے آگے بڑھ کر سختی سے روکا اور دھمکی دی کہ ’’گاڑی کوہاتھ مت لگانا‘‘۔ اس نے کہا ’’مجھے ہزار روپیہ نہیں دے رہا تو میں دو ہزار کا شیشہ توڑ دوں گا‘‘۔ مذاکراتی شخص نے اس کے ہاتھ سے انیٹیں لے کر ایک طرف پھینکیں اور سب چپ ہو کر کھڑے ہو گئے۔

اس اثنا میں اس نے گلی سے گزرتے ایک بچے کو دھمکاتے ہوئے کہا کہ ’’جا اوے اسے کہہ کہ ہزار روپیا دے میں نے شراب لینی ہے‘‘۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ڈنڈے والا شخص جو کہ گالی گلوچم والے لڑکے کا باپ ہے خاصہ تگڑا شخص ہے ۔اور گلی میں پندرہ بیس مکان اس کی ملکیت ہیں۔ یہ اس کا بڑا بیٹا ہے جو بڑے لاڈ اور پیار سے پلا ہے۔ بات کچھ بڑی نہیں تھی۔ لڑکا کچھ وقت سے چرس اور شراب کا نشہ کر رہا تھا اور آج اس نے باپ سے کہا کہ اسے ہزار روپے دے۔۔۔ باپ کے استفسار پر کہ کیوں چاہئے ہیں ۔۔۔ تو بچے نے سچ بتاتے ہوئے کہا کہ اسے شراب کی بوتل لینی ہے۔ جس پر باپ نے ایک نہیں دو تھپڑ دے مارے اور لڑکے نے کہا کہ’’تو باپ نہیں ہے ، میں نے تجھے قتل کر دینا ہے۔ میں۔۔۔ب۔۔ چ۔۔۔د۔۔۔ اپنے اللہ سے نہیں ڈرتا تو تجھ سے کیا ڈروں گا‘‘۔   وہ مذاکراتی شخص لڑکے کا تایا ابو تھا۔

عمران خوشحال راجہ

Check Also

نہ چاہو مجھے جاں سے زیادہ تم

نہ چاہو مجھے جاں سے زیادہ تم پر کرو تو ساتھ چلنے کا ارادہ تم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے