Home / عمومی / تیرے پہلو میں کیا رہا

تیرے پہلو میں کیا رہا

تیرے پہلو میں کیا رہا
دل پھر نہ میرا رہا

اک رہی بس تیری کمی
یوں تو دامن بھرا رہا

ہاتھوں میں رہی چھونے کی طلب
آنکھوں میں تیرا نقش سا رہا

جو اترے نہ کبھی سر سے
نشہ تیرا ایسے چڑھا رہا

رہے ایسے اس جہاں میں کوئی
بیچ بتوں کے جیسے خدا رہا
****
عمران خوشحال

Check Also

نہ چاہو مجھے جاں سے زیادہ تم

نہ چاہو مجھے جاں سے زیادہ تم پر کرو تو ساتھ چلنے کا ارادہ تم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے