Home / سیاسی / نتھنگ یعنی کچھ بھی نہیں اور پانامہ لیکس

نتھنگ یعنی کچھ بھی نہیں اور پانامہ لیکس

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ ’’کچھ بھی نہیں ‘‘ یعنی نتھنگ کیا ہے؟ کیا یہ کوئی چیز ہے یا کوئی چیز نہیں ۔ اور اگر یہ کوئی چیز بھی نہیں ہے تو یہ ہے کیسے ؟ یعنی اس کا وجود کیونکر ہے؟ ہم اس کو لکھتے کیوں ہیں؟ ہم اس کو کہتے کیوں ہیں؟ یہ یقیناً کچھ نہ کچھ ہو گا۔ٹھیک؟ لیکن پھر اگر یہ کچھ نہ کچھ ہے تو یہ نتھنگ یعنی ’کچھ بھی نہیں‘ نہیں ہو سکتا۔

_89063523_panama_index_draft2.jpg
فلسفیوں نے سقراط سے قبل اس بارے سوال اٹھائے اور سقراط کے بہت بعد یعنی پچھلی صدی اور پھر موجودہ صدی تک یہ معمہ سلجھانے کی کوشش میں لگے رہے کہ کہ آخر ’کچھ بھی نہیں‘ یعنی ’نتھنگ ‘ ہے کیا۔ طبعیات اور ریاضی دانوں نے اس پر بہت بات کی اور بہت سارے اس نتیجے پر پہنچے کہ ’کچھ بھی نہیں‘ دراصل کچھ ہے ۔ ستاروں سے کہکشاوں کے بیچ میں خالی جگہ دراصل خالی نہیں یہ کسی مادے سے بھری ہوئی ہے۔ اور یہی معاملہ ایٹموں کے بیچ کی خالی جگہ کے ساتھ بھی درپیش ہے۔ لیکن کیا ایسا ممکن ہے کہ طبیعات اور ریاضی کی دنیا کی اس بحث کو ہم اپنی معاشرتی زندگی کی بحث بنا سکیں اور بات کر سکیں کہ’کچھ بھی نہیں‘ کی سماجی حثیت کیا ہے۔

آج کل پانامہ لیکس نے دنیا بھر کے درجنوں لوگوں کے نام بدعنوانی کی فہرستوں میں لکھ کرکھلبلی مچا رکھی ہے۔ کچھ نے ان فہرستوں کو (کچھ) مانتے ہوئے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے۔ کچھ نے کہا کہ یہ فہرستیں ’کچھ بھی نہیں ‘ ہیں۔ ہم نے ایسا ’کچھ بھی نہیں‘ کیا ۔ یہ سب ’کچھ بھی نہیں ‘ ہے۔ لحاظہ ہم بے قصور ہیں۔

ایک صورتِ حال کا تصور کیجئے آپ کو شک پڑتا ہے کہ آپ کا شریکِ حیات، دوست یا گرل فرینڈ بوائے فرینڈ آپ سے کچھ چھپا رہا ہے۔ آپ اس سے سوال پوچھتے ہیں کہ کیا ہے۔ تم ۔۔۔آپ۔۔۔ کیا چھپا ۔۔۔۔ رہے ہو۔۔۔ رہے ہیں؟ اور آگے سے کہتا ہے کہ ’کچھ بھی نہیں‘۔ یعنی نتھنگ۔

کیا ان دونوں صورتوں میں ’کچھ بھی نہیں ‘ واقعی کچھ بھی نہیں ہے یا کچھ ہے۔ کیا یہ مان لیا جائے کہ شریف خاندان بے گناہ ہے اور جیسا کہ مریم اور حسین اور پھر ان کے اباّ جان کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے ’کچھ بھی غلط نہیں کیا‘ کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے کچھ نہ کچھ ضرور کیا ہے۔کیا یہ مان لیا جائے کہ آپ کے شریکِ حیات، گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ یا دوست نے آپ سے کچھ نہیں چھپا یا اور بقول اس کے ایسا واقعی ’کچھ بھی نہیں‘ ہے۔ تو سوال یہ کہ پھر شک نے کہا سے جنم لیا۔ اگر ’کچھ بھی نہیں‘ کچھ نہیں ہے تو کیا ’شک‘ ایک خیال کے طور پر عدم سے وجود میں آ سکتا ہے۔ یعنی کیایہ ایسی چیز ہو سکتا ہے جس کا تعلق ہمارے سننے ، دیکھنے اور محسوس کرنے سے نہ ہو۔کیا ایسا ممکن یہ کہ آپ نے کچھ بھی نہ سنا ہو اور کچھ بھی نہ دیکھا اور اور کچھ بھی نہ محسوس کیا ہو اور پھر بھی شک کر دیا ہو؟

افوہ کو اگر ہونے اور نہ ہونے کہ بیچ کی کوئی چیز سمجھا جائے تو یہ سمجھنا ممکن ہے کہ افوہ کہ لیے بھی کچھ نہ کچھ ہونا ضروری ہے۔ اور کسی بھی لیکس نے کسی بھی سازش کے ذریعے کسی کا نام بھی کسی فہرست میں ڈالا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ تو ضرور ہو گی۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ شریف خاندان واقعی بدعنوان ہواور جیسے یہ خود ہیں ان کی اولاد بھی ایسے ہی ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ چونکہ شریف خاندان پاکستان کا ’لہوا‘ دنیا جہاں میں منا رہا ہے تو یہ ایک عالمی سازش ہو کہ کہیں پاکستان باقی دنیا سے آگے نہ نکل جائے اس لیے اس کے وزیراعظم کو بدعنوان اور اس کی آل اولاد کو بدعنوان کہو تاکہ وہ جذبات میں آکر مستعفی ہو جائے اور پاکستان ساری عمر ایسے ہی گلتا سڑتا رہے اور کبھی بھی ترقی نہ کر سکے اور کبھی بھی دنیا میں اپنا ’لہوا‘ نہ منوا سکے۔

عمران خوشحال راجہ

Check Also

تعصب ہمیں کھا نہیں جائے گا کیا؟

تعصب ہمیں کھا نہیں جائے گا کیا؟

تعصب ایک ایسی ذہنی حالت ہے جس میں مبتلا انسان اپنے سے مختلف لوگوں کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے