Home / سیاسی / بدل دو کشمیر کا نعرہ تو اچھا ہے مگر ۔۔۔

بدل دو کشمیر کا نعرہ تو اچھا ہے مگر ۔۔۔

دو دن پہلے چوبیس فروری کو پاکستان تحریکِ انصاف کا کوٹلی میں طاقت کا مظاہرہ دیکھنے لائق ہوا ہوگا۔ اسلام آباد سے ہیلی کاپٹر میں چڑھنے والی قیادت جب ہوائی گروانڈ کوٹلی میں اتری ہو گئی تو زندہ باد اور پائیندہ باد کے نعرے بلند ہوئے ہوں گئے۔ قائدیں نے تقریریں کی ہوں گئی اور اس کے بعد پھر سبھی نعرے لگاتے گھروں کو چل دیے ہوں گئے۔نہ کسی نے کسی نعرے پر غور کیا ہوگا نہ اس کے امکان پر۔ کیونکہ ایک عام فکر ہے کہ نعرے لگانے کہ لیے ہوتے ہیں پورے کرنے کے لیے نہیں۔ اور کونسا عمران خان سے پہلے لگنے والے نعرے پورے ہوئے ہیں۔ کب یہاں لوگوں کو روٹی کپڑا اور مکان مل گیا جو اب نیا پاکستان اور پھر نیا کشمیر مل جائے گا۔ خیر بہت سارے نعروں میں ایک نعرہ ’’بدل دو کشمیر‘‘ بھی تھا۔

Cb-WKAYWAAMHedh
جب کوٹلی میں پی ٹی آئی کہ سرخ اور سبز پرچم لہرا رہے تھے اس وقت سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ’’بد ل دو کشمیر‘‘ کا ٹرینڈ چل رہا تھا۔ جس پر تحریکِ انصاف کے سرگرم کارکنان جو کہ زیادہ تر ٹائیگرز اور ٹائیگرسز ہیں ٹویٹ کر رہے تھے ۔ وہ کہ رہے تھے بدل دو کشمیر جیسے پاکستان بدلا ہے۔ بدل دو کشمیر جیسے کے پی کے بدلا ہے۔ خان کی قیادت میں بدل دو کشمیر ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔

مگر سوال یہ کہ ٹویٹ کرنے والوں کی اکثریت کو نہیں پتا کہ کشمیر ہے کہاں اور کشمیریوں کے مسائل کیا ہیں۔ ’’بدل دو کشمیر ‘‘ کا نعرہ تو اچھا ہے پر ٹویٹ کرنے والوں کو کون بتائے کہ کشمیر سے ان کے ساتھی ٹائیگرز اور ٹائیگرسز ٹویٹ لکھ کر چھت پر چڑھ جاتے ہیں کہ اب سنڈ ہوئی یا اب سنڈ ہوئی۔ اور اگر کبھی کوئی تصویر چڑھانی پڑجائے تو موبائل فون رات کو چھت پر ہی چھوڑ کر آنا پڑتا ہے۔ آزاد کشمیر آج کے دور میں بھی انٹرنیٹ کی جدید سہولت سے محروم ہے۔ کوئی تھری جی فور جی نہیں اور ایک تھکی ہوئی ایس کوم کی سروس ہے جس کے بارے بہت سارے لوگ باخوبی جانتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کیونکہ انٹرنیٹ پر’’ ایس سی او‘‘ کی اجارہ داری ہے اس لیے کشمیر میں پرائیوٹ ٹیلی کام کمپنیوں کو تھری جی سروس دینے کے لیے’’ این اوسی‘‘ جاری نہیں کیے جا رہے۔ جبکہ کچھ لوگو ں کا خیال ہے کیونکہ پاکستان نہیں چاہتا کہ آزاد کشمیر سے کوئی بھی ایسی خبر بیرونی دنیا تک جائے جو اس کا امیج خراب کرئے۔

خیر تو بات ہو رہی تھی ’’بدل دو کشمیر‘‘ کی۔ کشمیر کو بدلنے کہ لیے خان صاحب کو کوٹلی جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ قومی اسمبلی میں کشمیر کونسل کو ختم کرنے کی تحریک پیش کرتے اور اس کو منظور کروا کر کشمیر اسمبلی کو بااختیار کرتے۔ وہ تقسیمِ کشمیر کی بجائے کشمیر کو متحد کرنے کی بات کرتے اور حکومت کے سامنے یہ موقف رکھتے کہ گلگت بلتستان تاریخی طور پر کشمیر کا حصّہ ہے اس کو صوبہ بنانے کی غلطی سے کشمیر بدلنا تو مشکل کبھی اس تنازعے کا حل بھی ممکن نہیں ہوگا۔ کشمیر بدلنا تھا تو آزاد کشمیر سے لینٹ افسران کا خاتمہ کرتے۔ اور پاکستان سے وزیرِ امورِ کشمیر کا۔ کشمیر بدلنا تھا تو کشمیر سے ہونی والی وسائل کی لوٹ مار کو رکوانے کے لیے پاکستان حکومت کو قانوں سازی پر مجبور کرتے۔ کیونکہ کشمیر سے جو کچھ بھی سمگل ہو کر جا رہا ہے وہ کوہلہ اور آزاد پتن سے پاکستان میں ہی پہنچ رہا ہے۔

’’بدل دو کشمیر ‘‘ کا نعرہ لگا کر آپ بھی کشمیریوں کو چونا لگا گئے ہیں۔ جن لوگوں کو خان صاحب آپ آگے لے کر آئے ہیں اور مسلط کرنا چاہتے ہیں یہ تو وہی لوگ ہیں جو پاکستان پیپلز پارٹی کے وقت میں مسلط تھے یہ تو وہی لوگ ہیں جو ’’ن‘‘ ’’میم‘‘ اور’’ف‘‘ لیگوں سے نکل کر پی ٹی آئی میں آ گئے ہیں۔ یہ لوگ کیسے اور پھر کیوں کشمیر بدلیں گئے؟

Check Also

تعصب ہمیں کھا نہیں جائے گا کیا؟

تعصب ہمیں کھا نہیں جائے گا کیا؟

تعصب ایک ایسی ذہنی حالت ہے جس میں مبتلا انسان اپنے سے مختلف لوگوں کو …

One comment

  1. kia khoob baat ki apne internet ka leye he toh strive kr rhe han

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے