Home / خیال / تنازعہِ کشمیر۔ مجوزہ ممکنہ حل

تنازعہِ کشمیر۔ مجوزہ ممکنہ حل

کالم نگار:عمران خوشحال راجہ

کالم: دریدہ دہن

ابھی پھر سے ایک ہوا چلی ہے۔ مختلف افراد، اداراے اور ریاستیں اپنے اپنے طور پر مسلہِ کشمیر کے حل تجویز کر رہی ہیں۔ ان میں سے بعض تقسیمِ کشمیر کی بات کررہے ہیں تو بعض کشمیر کو جذیات میں خودمختار بنانے کی۔ اس سے قبل بھی ایسے حل تجویز کیے گئے ہیں لیکن کوئی بھی حل آج تک مسلے کے تمام فریقین کو کلی طور پر راضی نہ کر سکنے کی وجہ سے قابلِ قبول نہ ہو سکا۔ اس بات کو ذہین میں رکھنا چاہئے کہ مسلے کا حل پیش کرنے سے پہلے اس کا درست ادارک ہونا ضروری ہے جو کہ پہلے پیش کیے گے بہت سارے مجوزات میں ناپید نظر آتا ہے۔

four-point-kashmir-formula-802-x-460.jpg

مسلہِ کشمیر کو سمجھنے سے پہلے کشمیر کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ آج کل دانستہ یا غیر دانستہ کچھ لوگ اور ادارے کشمیر کو اپنے من پسند جغرافیے کے ساتھ متعارف کرانے میں مصروف ہیں۔ تاریخی طور پر کشمیر آج کے پاکستانی زیر انتظام اور بھارتی زیرِ انتظام تمام حصّوں باشمول چین کے زیرِ انتظام دو حصّوں پر مشتمل ہے۔ اور سارے کا سارہ متنازعہ ہے۔ اس کہ تمام حصّوں میں سے کوئی بھی حصّہ کسی بھی ریاست کا باقاعدہ صوبہ یاذیلی ریاست نہیں ہے۔

اس تناظر میں مسلہِ کشمیر کا ایسا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو پاکستان اور بھارت کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کو بھی قابلِ قبول ہو۔ لیکن اب مسلہ یہ ہے کہ کشمیریوں کو کوئی حل قبول ہے یا نہیں اس کا پتا کیسے چلے گا۔ کیونکہ موجودہ نظام میں کشمیر تین بڑے حصّوں میں منقسم ہے اور ہر حصّے میں ایک الگ قانون ساز یا ریاستی اسمبلی ہے۔ ان اسمبلیوں کو عوام کا منڈیٹ حاصل نہیں اور یہ ایسے عمل سے تشکیل دی گئی ہیں جس میں صرف وہی لوگ آگے آ سکتے ہیں جو پاکستان یا بھارت سے الحاق پر راضی ہوں۔ یہ اسمبلیاں اگر لائن آف کنٹرول کے اس طرف ہیں تو ان کو اسلام آباد کو جواب دینا ہے اور اگر اس طرف تو نئی دہلی کو۔ اور تو اور اب تو پاکستان اور بھارت کی مین سٹریم جماعتوں نے کشمیریوں سے ان بے اختیار اسمبلیاں میں جانے کا اختیار بھی چھین لیا ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ موجودہ نام نہاد قانون ساز ااور ریاستی اسمبلیوں کو ’’نمائیندہ اسمبلیوں‘‘ سے تبدیل کیا جائے۔ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور جمّوں کشمیر میں ’’نمائیندہ اسمبلیوں‘‘ کے انتخابات کرواے جائیں جو کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی زیرِ نگرانی ہوں۔ اور جن میں کوئی بھی کشمیر کسی بھی ملک سے الحاق یا خودمختاری کے نظریات کا حامل ہو، حصّہ لے سکے۔ پہلے مرحلے میں آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور جمّوں کشمیر کی نمائیندہ اسمبلیوں کی تشکیل ہو، جن کے ممبران کی تعداد آبادی اور علاقے کی تناسب سے مساوی ہو اور جن میں مسلمانوں کے علاوہ ہندوں اور دیگر مذاہب کے پیروکار کشمیریوں کو متناسب نمائیندگی دی جائے۔

دوسرے مرحلے میں ان تین(چار، یا جتنی بھی ضروری ہوں) نمائیندہ اسمبلیوں کو ملا کر ایک گریٹر نمائیندہ اسمبلی بنائے جائے جو کہ پورے کشمیر سے تمام کشمیریوں کے منتخب نمائیندوں پر مشتمل ہو اور جس کے پاس کشمیری عوام مکمل منڈیٹ ہو۔ ایسا منڈیٹ جس کی بنا پر یہ گریٹر نمائیند اسمبلی پاکستان اور بھارت سے مذاکرات کر سکے۔ ایسے مذاکرات جو مستقبل میں رائے شماری سمیت دیگر پہلوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے کشمیر کے مسلے کے حل کی طرف لے جا سکیں۔

ساتھ ہی ساتھ لائن آف کنٹرول کو نرم کیا جائے۔ اور عالمی تنطیموں کی نگرانی میں کشمیری نیشنلز کو ریاست باشندہ کی بنیاد پر ’’کشمیر کارڈ‘‘ جاری کیے جائیں۔ یہ کارڈز لائن آف کنٹرول سے آر پار جانے اور کشمیر کے کسی بھی حصے میں رہنے اور کاروبار کرنے کے لیے باطورِ پرمٹ استعمال ہوں۔
انٹرا کشمیر ٹریڈ کو علامتی حد سے بڑھا یا جائے اور تجارتی مال پاکستان یا بھارت کی منڈیوں کی بجائے کشمیر کی منڈیوں سے خریدا اور بیچا جائے۔ اس ٹرید پر ٹیکس کا اطلاق اور کولیکشن نمائیندہ اسمبلی کا استحقاق ہو نہ کہ کسی دوسرے ٹیکس ڈیپارٹمنٹ یا کونسل کا۔ اس ٹیکس باشمول دیگر تمام طرح کے ٹیکسوں کا ایک حصّہ ترقیاتی اور دوسرا حصہّ آر پار کشمیر یوں کے رابطے اور سفری سہولتوں کو بہتر بنانے پر لگایا جائے۔ عالمی تنظیموں کو کشمیرمیں آنے اور ترقیاتی منصوبے لگانے کی اجازت ہو۔

کشمیر کے ایک حصّے کی سیاسی جماعت کو دیگر تمام حصّوں میں تنطیم سازی اور دفاتر قائم کر کے سیاست کرنے کی اجازت ہو۔ تمام کشمیریوں کو بنیادی انسانی حقوق حاصل ہوں اور اس بات کی تصدیق کے لیے انسانی حقوق کی عالمی تنطیموں کو کشمیر کے تمام حصّوں میں بلا روک ٹوک کام کرنے کی اجازت ہو۔

اگلے مرحلے میں کشمیر سے پاکستانی اور بھارتی فوجوں کا انخلا ہو اور پورے کشمیر میں سے مسلح گرہوں کا انخلا بھی عمل میں لایا جائے۔ امن و امان کی صورت حال سے نمٹنے کہ لیے نمائیندہ اسمبلی’’ کشمیرپولیس‘‘ تشکیل کرئے جو کہ کشمیریوں پر مشتمل ہو اور جس کو نمائیندہ اسمبلی کا ذیلی ادارہ ڈیل کرئے۔

یاد رہے کہ یہ اور دیگر ایسے چھوٹے چھوٹے اقدامات ہی مسلہِ کشمیر کے کسی تسلی بخش حل کی طرف لے جا سکتے ہیں ۔جبکہ ایک بھرپو ر اور مکمل حل کا انتظار اس مسلے کو اور پیچدہ کرئے گا۔ حل میں جتنی زیادہ تاخیر ہو گی مصائب میں اتنا زیادہ اضافہ ہوگا۔ جنگ کے لیے جتنا بارود خریدا جائے گا امن اتنا ہی کمزور اور نحیف ہوتا جائیگا۔کشمیر کا مسلہ مزید تاخیر زدگی کا شکار ہوگا تو کشمیریوں کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کے عوام بھی غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور دہشت گردی کی چکی میں پسیں گے۔

Check Also

تعصب ہمیں کھا نہیں جائے گا کیا؟

تعصب ہمیں کھا نہیں جائے گا کیا؟

تعصب ایک ایسی ذہنی حالت ہے جس میں مبتلا انسان اپنے سے مختلف لوگوں کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے