نہ چاہو مجھے جاں سے زیادہ تم

نہ چاہو مجھے جاں سے زیادہ تم پر کرو تو ساتھ چلنے کا ارادہ تم میں قسم سے قسموں کا بندہ نہیں ابھی لے لو بچھڑ جانے کا وعدہ تم مجھے کیا پڑی ہے فرشتہ نظر آنے کی اور ایسا ہی کیوں اوڑھو کوئی لبادہ تم تمھارے طنز کو تعریف سمجھوں جاناں کیا واقعی سمجھتی ہو مجھے اتنا سادہ تم ملن کی میری جاں اب یہ صورت ہے فاصلہ طے کرتے ہیں آدھا میں آدھا تم عمران خوشحال

Read More »

تیری ہنسی

ذرا جو آنکھیں بند کروں تو دکھائی دیتی ہے تیری صورت سنائی دیتی ہے تیری ہنسی ہوا کے دوش پر جھومتی سرمست لہر کے جیسی یخ بستہ برفیلے موسموں میں دوپہر کے جیسی صحرائے نفرت سے اُدھر محبت کے شہر کے جیسی تیری ہنسی شبِ ظلمت کی سحر کے جیسی تیری ہنسی لفظوں میں ڈھلے کیسے یہ ہے راز گہرا کھلے کیسے تیری ہنسی ہے جنت کا ترنم جنت سوائے اس کے ملے کیسے عمران خوشحال

Read More »

ہجر میں مرے یا وصل میں جیے

ہجر میں مرے یا وصل میں جیے ہمی لوگ تھے جواصل میں جیے کسی نے کہا تھا مرتے دم تک جیو تیرے پہلو کی طرح مقتل میں جیے مشکلیں پڑیں کبھی نہ آساں ہونے کو ہم زندہ دل ایسے ہر مشکل میں جیے تمھارے شہر کا ہر وہ شخص میرا ہے میرے بعد جو میری شکل میں جیے اور اب زندگی کی تعریف بدل دو زندہ وہ ہے جو ہر ایک پل میں جیے عمران خوشحال

Read More »

بے یقینی

اسے یقین دلاوں میں اس کی دھوپ چھاؤں پر خود کو یقین نہیں کہ میں بھی ہوں کہیں ڈگریوں کے ڈھیر میں امید ِسحر و سویر میں گم سا ہو گیا ہوں خود سے کھو گیا ہوں میں بھی ہوں یہیں کوئی دلائے مجھے یقیں ***** عمران خوشحال

Read More »

منشیات سے پاک پاکستان لیکن کیسے؟

کتنی عجیب بات ہے کہ سارا ملک سیاست اور سیاستدانوں کے گرد گھوم رہا ہے اور طلبہ سیاست پر پابندی ہے۔ ایک زمانے میں جب پاکستان میں طلبہ تحریک اپنے عروج پر تھی تو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس میں اسلحہ اور نشہ کلچر کو پروان چڑھایا گیا۔ پھر اسی بات کو جواز بنا کر طلبہ سیاست پر ہی پابندی لگا دی گئی۔ مان لیا کہ ماضی میں کچھ طلبہ نشے کی لت میں مبتلا تھے مگر اس حقیقت سے انکار کیسے ممکن ہے کہ کئی ایک طلبہ سیاست میں بھی سرگرم تھے جن میں بہت سے آج …

Read More »

اوے ابّا پیسے دے، شراب لینی ہے!

گلی میں ایک لڑکاجس کی عمر مشکل سے بیس سال ہوئی ہو گی ، ہاتھ میں کوئی کاٹنے والی چیز پکڑے اپنے سے تگنی عمروں کے تین چار مردوں سے گالم گلوچ کر رہا تھا۔ ان میں سے ایک شخص نے ہاتھ میں ایک پائیپ نما ڈنڈا پکڑا ہوا تھاجس سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ شاید اسی کے استعمال نے لڑکے کو بھڑکا دیا ہے لیکن  اصل مہاجرہ کیا ہے یہ سمجھنا مشکل تھا۔تین میں سے دو شخص ذرا پاس جاتے اور اسے سمجھانے کی کوشش کرتے مگر وہ اچھل کر پیچھے جاتا اور گالیوں کی مزید واہیات …

Read More »

رات

یوں لگتا ہے رات اک پڑاو ہے اور صبح سفر کا پہلا پہر دن چڑے قافلوں کے قافلے اور پھر ایک اک کر کہ گھٹ رہے لوگ اپنی اپنی دشاوں میں بٹ رہے شام کے سائے پھر گہرے ہوتے ہیں اور میرے ساتھ فقط دو چار لوگ بچتے ہیں پھر یہ بھی نہیں رہتے اور رات جواں ہونے لگتی ہے ہزاروں نہیں لاکھوں میں سے بس ایک تو باقی ہے اور پھر تو بھی اندھیروں میں کہیں گم ہو جاتی ہے یوں لگتا ہے رات اک پڑاو ہے اور صبح سفر کا پہلا پہر ★★★★★ عمران خوشحال

Read More »